ٹوٹا لورز (حصہ اول)
تحریر: طارق حبیب
تحریر: طارق حبیب
-کراچی یونیورسٹی میں دوستوں کی محفلوں کے رنگ ہی نرالے تھے۔ اس دوران جنم
لینے والی کئی چیزیں عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد بھی نہ صرف ساتھ رہتی ہیں
بلکہ وقفہ وقفہ سے اپنا احساس بھی دلاتی رہتی ہیں۔ کچھ دوست کوئی دلچسپ واقعہ
سناتے ہوئے زبان وبیان یا تلفظ کی غلطی کرجاتے جسے پکڑ کر دیر تک قصہ گوکا ’’ریکارڈ‘‘
لگتا تھا۔ اس طرح کی غلطیاں اگرچہ سب ہی کرتے تھے مگر کچھ دوست ایسے تھے جو غلطی کیے
بغیر اپنی بات مکمل نہیں کرسکتے تھے۔ جامعہ کراچی میں مجید کے ہوٹل پر بیٹھے ہوئے
ایک دوست نے جب ایک جملے میں تین غلطیاں کیں تو فاروق حیدر کو شرارت سوجھی اور اس
نے کاغذ قلم لے کر گزشتہ چند روز میں کی جانے والی غلطیوں کی فہرست بنا لی۔ فاروق
نے باآواز بلند یہ غلطیاں سب کو سنائیں اور کہا کہ آئندہ ایسی غلطیوں کو
’’ٹوٹا‘‘ کہا جائے گا اور گروپ کا نام ’’ٹوٹا لورز‘‘ ہوگا جبکہ ٹوٹا دینے والے ہر
فرد کو گروپ کی
رکنیت دے دی جائے گی۔ یہ ٹوٹے اس طرح کے ہوتے تھے۔
رکنیت دے دی جائے گی۔ یہ ٹوٹے اس طرح کے ہوتے تھے۔
ساحل سمندر کے کنارے، تحریری طور پر لکھ کر دے دو، تفصیل سے بریفلی
سمجھائو، دوبارہکرو وغیرہ۔
اس واقعہ کے چند دن
بعد پھر فاروق کو شرارت سوجھی اور اس نے کہا کہ بابائے ٹوٹا نامزد ہونا چاہیے اور یہ
اعزاز اسے دینا چاہیے جو سب سے زیادہ ٹوٹے دیتا ہو۔ اس مرحلہ پر دو دوستوں کا نام
زیر غور رہا پھر بابائے ٹوٹا کا لقب ایک دوست کے نام کردیا گیا۔ نام اس لیے نہیں
لکھ رہا کہ میں بھی اس گروپ کا رکن ہوں اور مجھے اس مضمون کے بعد بھی گروپ کے اراکین
میں جانا ہے وہاں میرا کیا حال ہوسکتا ہے… طے کیا گیا کہ ٹوٹا لورز کے تحت ہونے
والے ہر کام کی اجازت بابائے ٹوٹا سے لی جائے گی۔ اگرچہ روزگار کے حصول کے لیے
ٹوٹا لورز کے کئی اراکین ملک سے باہر جاچکے ہیں مگر آج بھی یہ عمل جاری ہے اور اس
گروپ کا کوئی رکن کسی دوسرے رکن کے سامنے ٹوٹا دے دے تو وہ فوراً ایس ایم ایس کے
ذریعے گروپ کے تمام اراکین تک پہنچ جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ
غلطیاں ہم طالب علم ہی کرتے ہیں مگر صحافت میں آنے کے بعد جو ٹوٹے ہم کو ملے انہیں
سن کر ہمیں اپنے ٹوٹوں پر شرمندگی ہونے لگی اور سونے پر سہاگہ کہ ٹوٹے دینے والے
افراد طالب علم نہیں بلکہ صحافت کے ’’استاد‘‘ ہیں۔ ان تمام اساتذہ سے معذرت کے
ساتھ ان کے چند ٹوٹے یہاں تحریر کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
سب سے پہلے جن صاحب کا
تذکرہ کیا جارہا ہے وہ تو ہمارے بابائے ٹوٹا سے یہ لقب بھی چھیننے کی اہلیت رکھتے
ہیں۔ کامران خان صاحب نے بہت اچھے ٹوٹے دیے۔ ان کے پروگرام میں کم کم ہی دیکھ پاتا
ہوں۔ میرا معدہ ایک گھنٹہ کے پروگرام میں ہزاروں اعلیٰ نسل کے ٹوٹے ہضم نہیں کرسکتا۔
چند ٹوٹے آپ بھی پڑھیے۔
’’یوم پاکستان کے دن سڑکوں پر بہت رش رہا، یوم سوگ والے دن گاڑیاں جلائی گئیں۔
سخت ہڑتال نظر آئی۔ شہر پر جلائو گھیرائو کا قبضہ تھا۔ کان پر نم ہوگئے تھے اور
اس کی آواز سننے سے قاصر تھے۔‘‘ ایک رپورٹر سے کامران خان کی جانب سے پوچھا گیا
’’ایک‘‘ سوال اور رپورٹر کا جواب بھی حاضر ہے۔ سوال: یہ بتایئے کہ آج شہر میں
کتنے لوگوں کو جان سے مار کر قتل کیا گیا اور شہر قائد کے کتنے گھر اجڑے ہیں۔ کتنی
عورتوں کو بیوہ کرکے ان کے سہاگ اجاڑ دیے گئے۔ ان دہشت گردوں نے کتنے شہریوں کے
خون سے شہر قائد کی سڑکوں کو رنگین کیا۔ جواب ملا: ’’27‘‘.
اسی طرح کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے سیمی
فائنل سے قبل کامران خان نے ایک طویل پروگرام کیا اور اختتام پر تاریخی جملے کہے
’’ناظرین ماہرین سے رائے لینے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ جو ٹیم سیمی فائنل جیتے
گی وہی فائنل کھیلے گی۔‘‘ طویل پروگرام کا یہ نتیجہ سن کر میرا دل چاہا اپنا سر دیوار
پر مار دوں۔
اب بتائیں ہمارے
بابائے ٹوٹا کو اپنا لقب جاتا ہوا محسوس ہوگا یا نہیں۔ یہیں پر بس نہیں۔ ایک معروف
پروگرام کے اینکر جناب حامد میر صاحب بھی کبھی کبھی ٹوٹا دے دیتے ہیں۔ ملاحظہ کریں۔ Saturday والے دن
کی بات ہے۔ اس نے بلیک پینٹ اور بلو جینز پہنی ہوئی تھی۔ پولیس آنسو گیس فائرنگ
کررہی تھی۔ مگر حامد میر صاحب سے ٹوٹے کم ہی سننے کو ملتے ہیں۔
دوسری جانب وہ دو اینکرز
ہیں جنہیں ان کے انداز ’’اینکری‘‘ کی وجہ سے عوام بہن بھائی سمجھتے ہیں۔ جی ہاں
آپ ٹھیک سمجھے۔ ڈاکٹر دانش صاحب اور جاسمین صاحبہ۔ ان کے ٹوٹے بھی پڑھ لیں۔ ’’یہ
کراچی کا وہ شہر ہے جہاں زیادہ رش ہوتا ہے۔ حج کے لیے جانے والے مظاہرین کو مشکلات۔
طیارہ فضا میں پرواز کرگیا (زمین یا پانی پر تو پرواز ہو نہیں سکتی)۔ تمام
ڈاکومنٹس اور دستاویزات حاصل کرلی ہیں۔ حیرت کی بات ہے کار کی ٹینکی میں دو سو
روپے کا پیٹرول ڈلوایا (پیٹرول شاید ٹینکی میں ہی ڈلوایا جاتا ہے)۔
اسی طرح خواتین اینکر
عاصمہ شیرازی اور عاصمہ چوہدری بھی وقفہ وقفہ سے ٹوٹے دیتی رہتی ہیں۔ عید کے مواقع
پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں عاصمہ چوہدری صاحبہ نے کہا ’’مجھے گول گول چوڑیاں
بہت پسند ہیں‘‘ (چوکور یا تکونی چوڑیاں بھی ہوتی ہیں کیا)۔ اسی پروگرام میں کہا گیا
کہ ’’یہ میری فیورٹ پسند ہے‘‘ (عوام، میرا بیچاری کو خوامخواہ مذاق کا نشانہ بناتے
ہیں)۔ ’’مغرب عروج کا شکار ہے۔‘‘
ٹی وی چینلز کے رپورٹر
حضرات بھی ٹوٹے دینے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ ایک ٹوٹا زبان زد عام ہے ’’بم دھماکے
سے پھٹ گیا۔‘‘ میرا خیال ہے کہ بغیر دھماکے کے کم ازکم بم تو نہیں پھٹتا۔ کئی
رپورٹر تو بہت قابل ہیں۔ یقین نہ آئے تو "youtube" پر چاند نواب لکھ
کر دیکھ لیں۔ اس ویڈیو کو بھارت میں صحافیوں کی تربیت کے دوران دکھایا جاتا ہے اور
ہاں ایک سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم مسلسل ’’ذمہ دار‘‘ کہتے ہیں۔ مگر وزیراعظم
بھی تو یہی کہتے ہیں۔
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ابھی اس کالم میں پتا نہیں کتنے ٹوٹے نکلیں
گے۔ میرا ایک ٹوٹا ایڈیٹر صاحب ہمیشہ پکڑتے ہیں مگر میں اس ٹوٹے کو ختم نہیں کرسکا
اور وہ ہے ’’ذ‘‘ اور ’’ز‘‘ کا فرق۔ اس فرق کی وجہ سے کتنے اعلیٰ قسم کے ٹوٹے وجود
میں آتے ہیں یہ پھر کبھی بتائوں گا۔ کوشش ہوگی کہ ہر ہفتہ ملک کی ’’اعلیٰ شخصیات‘‘
کی جانب سے دیے جانے والے ٹوٹوں کو ٹاٹو لورز کے نام سے باقاعدگی سے شائع کیا جائے
جو شاید قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو۔ آخر میں ہمارے بابائے ٹوٹا کی جانب سے
ترمیم کے بعد گروپ کے نام کیا گیا ایک شعر(جس پر مجھے تو یقین ہوچکا ہے)
یہ بازی ٹوٹا بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر منہ سے ٹوٹا نکلے گا تم کتنے ٹوٹے پکڑو گے
اور ہاں عوام تو جانے کب سے مونث واحد ہوگئے یعنی ’’بے چاری عوام‘‘۔ ہم نے
تو عوام کو جمع مذکر ہی پڑھا۔ مگر اچانک جنس تبدیل ہوگئی۔ بے چارے عوام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیغام حیا
تحریر: طارق حبیب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیغام حیا
تحریر: طارق حبیب
وہ ایک نامور مصور تھا۔مغربی ممالک میںمصوری کے میدان میں اس کا نام مثال بن چکا تھا۔ آنکھ کے پردے پر آنے والی ایکجھلککو اس کی مکمل خوبصورتی کے ساتھ تصویر کی شکل دینا اس کے لئے معمولی کام تھا۔وہ کم عمری میں ہی یورپی سرزمین کاغرور قرار دئے جانے والے حسن کواس کی مکمل خوبصورتی اور رعنائیوں کے ساتھ کاغذ پر منتقل کرکے اپنی مہارت کا ثبوت دے چکا تھا۔ ایسا کرنے کے بعد اس کے چہرے پر ایسا اطمنان آتا جیسے کسی ناقابل تسخیر شاہکار کو اپنے قدموں تلے روندنے والے فاتح کے چہرے پر ہوسکتا ہے ۔اس کے شاہکار حقیقت کے عکاس تھے۔ اس کے وہ فن پارے عالمی نمائشوں میں ہمیشہ پہلا انعام حاصل کرتے۔لوگ انتظار کرتے تھے اس کے آئندہ شاہکار کا۔
اسے اپنی صلاحیتوں کا اندازہ بھی تھا اور ان پر فخر بھی ۔ لوگوں کی ستائشی نظریں اسے اچھی لگتی تھیں۔وہ دنیا بھر میں پہچانا جاتا تھا۔ عزت، شہرت ، نام دولت سب اس کے پاس موجود تھا۔ وہ خود کو دنیا کا کامیاب ترین انسان سمجھتا تھا اور اسی لئے وہ اپنے دل و دماغ میں پیدا ہونے والے ان خیالات کو خاطر میں نہیں لاتا تھا جو مغربی غرور قرار دئے جانے والے چہروں کو برش سے کاغذ پر منتقل کرنے کے بعد بھی اسے چین نہ لینے دیتے تھے۔
یہ شاہکار اس کی کامیابی کے ضامن تھے مگر وہ خود اپنے بنائے ہوئے ان فن پاروں سے کبھیمطمئن نہیں ہوا تھا۔ اس کا دل بے چین رہتا تھا اور اس کے اپنے بنائے ہوئے فن پاروں کو شاہکار تسلیم کرنے سے انکار کرتا تھا۔ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ اس کا دل بھی اس شخص کے ساتھ ہے جو ہمیشہ اسے کی تصویروں کو معمولی سی بھی اہمیت نہیں دیتا تھا۔
بس وہ ایک شخص تھا جسے دیکھ کر وہ تذبذب کا شکار ہوجاتا تھا۔ اس کے چہرے سے کامیاب شخص کا غرور اور فاتح کاگھمنڈ غائب ہو جاتا تھا۔ اس کے فن پاروں کی نمائش یورپ کے معروف ترین آڈیٹوریمز میں ہوتی تھی اور وہ شخص باقاعدگی سے ہر نمائش میں آتا تھا۔۔ لاکھوں ستائشی نظروں کے ساتھ ساتھ بس ایک اسی کی تنقیدی نظروں کا سامنا اسے کرنا پڑتا۔ وہ ہمیشہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتا تھا۔ وہ اس کے ہر شاہکار کی نمائش میں ضرور آتا اور جاتے ہوئے بس اس سے ایک جملہ کہتا جو چند لمحوں کے لئے اس کے جسم پر لرزہ طاری کردیتا۔ اس بار بھی یہی ہوا۔ اس نے دنیا میں جنت قرار دی جانے والی سرزمین کے ایک چہرے کو کاغذ پر منتقل کیا تھا۔ وہ تصویر یورپی شاہکار تھا۔تمام شرکاءاس کو داد دے رہے تھے اور اس کی گردن فخر سے اکڑتی جارہی تھی کہ اچانک وہ ہال میں داخل ہوا ۔ اسے دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا اور اس بار بھی ہال میں کئی چکر لگانے کے بعد وہ اس سے ملا اور ہمیشہ کی طرح ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے اپنا تعارفی کارڈ دیا اور مخصوص جملہ دہرایا:

جو خودنمائی کے لئے تمہارے برش کے زریعے کاغذ پر آجائے وہ شاہکار نہیں ہو سکتا۔
"جس دن قدرت کا حقیقی شاہکار دیکھ لیا تو کینوس پر منتقل کرنا تو د ور کی بات ہے ، تاب بھی نہ لاسکو گے "۔
مگر مجھے یقین ہے تم ضرور حقیقی شاہکار کو ڈھونڈ لو گے کیونکہ رب نے جو تمہیں صلاحیتیںدی ہےں وہ خود نمائی کے پیاسے ان چہروں کو دنیا میں متعارف کرانے کے لئے نہیں ہوسکتی۔ تمہاری صلاحیتیں ضرور پیغام پہنچانے کے لئے استعمال ہونگی۔
اور پھر یہی ہوا۔
وہ لاکھوں ستائشی نظروں کو بھول گیا اور اس ایک شخص کی چبھتی ہوئی نظروں میں اپنے لئےتعریف دیکھنے کےلئے کسی ایسے شاہکار کوتسخیر کرنے کا تہیہ کر بیٹھا جو اس شخص کی نظرون کو بدل دے۔ تلاش کے جنون میں وہ نکل کھڑا ہوا۔پھر جب وہ خود کو پہلی بار ناکام تصور کرکے واپسی کا ارادہ کررہا تھا تو اس نے آسمان کی جانب نگاہ کرکے اپنی کامیابی کے لئے مدد مانگی۔
اور جب وہ واپسی کا سفر شروع کرچکا تھا تواچانک ایک عکس اس کی آنکھوں کے پردے پر لہرایا۔حقیقت کا عکس تھا یا خیال۔ اس نے آنکھیں بند کرکے اس خیالی عکس کو آنکھوں کے پردے سے زہن میں محفوظ کرنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں وہ ہوش میں نہ رہا۔جب اسے ہوش آیا تو کچھ لوگ اس کے اردگرد میں موجود تھے جو اس کے ہوش میں آنے پر اطمنان کا اظہار کررہے تھے۔
اس نے واپسی کا سفر شروع کیا تو اس کے زہن و دل میں جنگ جاری تھی۔ دل کہتا تھا کہ اسزہن میں محفوظ ہونے والے اس عکس یا خیال کو کینوس پر منتقل کرنا ناممکن ہے جبکہ زہن اسے کہتا تھا کہ یہ تیرے فن کی توہین ہوگی۔وہ واپس پہنچا اور اپنے تمام سابقہ فن پاروں کو غور سے دیکھا۔
ٓآنکھیںشخصیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ اس کے زہن میں اس شخص کے الفاظ گونجے۔
وہ مغرب کے بہترین حسن قرار دئے جانے والے ان چہروں کی آنکھوں کو دیکھتا۔ اس نے پہلی تصویر کی آنکھوں میں دیکھا، پھر دوسری، پھر تیسری، چوتھی۔۔۔۔۔مگر سب مغربی مقابلوں میں حسن کا شاہکار قرار دئے جانے والے ان چہروں پر آنکھیں تو تھیں مگر،
بے باک آنکھیں، نفس کی غلام آنکھیں، ہوس کی پجاری، شہرت اور دولت کی بھوکی،متاع عزیزکی نیلامی پر تیار۔
مغربی ثقافت کا پرچار کرتی ان تصویروں کو دیکھ کر اسے متلی ہونے لگی۔ اس نے پہلی تصویر فرش پر پھینکی اور آگ لگا دی اور یکے بعد دیگرے تمام تصویروں اپنے انجام کو پہنچ گئیں جبکہ تصویر میں دکھائی دینے والے حقیقی وجود کو بھی بالآخر اسی انجام سے دوچار ہونا ہے۔اس کا ریکارڈ روم خالی ہوگیا تھا۔اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ خیالی عکس کو ضرور کاغذ پر منتقل کرے گا اور پھر وہ اس کام میں مگن ہوگیا۔اس نے کئی ماہ کی سخت محنت کے بعد اپنے خیالی عکس کو کینوس پر منتقل کیامگر اس کا دل اس کی نمائش کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس نے وہ تصویر اپنے اسٹڈی روم میں رکھ دی اور اس پر چادر ڈال دی۔ اسے یہ خوف محسوس ہوتا تھا کہ اگر کوئی نظر اس تصویر پر پڑی تو یہ میلی ہو جائے گی ۔
وہ روزانہ اس تصویر دیکھتا اور پھر اس کو ڈھانپ دیتا۔اس کا دل مطمئن تھا کہ جیسے اس نےحقیقی شاہکار بنالیا ہو۔معمول کے مطابق آج بھی اس نے پردہ اٹھایا تو اس کے زہن میں اس شخص کے الفاظ گونج رہے تھے ، تمہاری صلاحیتیں ضرور پیغام پہنچانے کےلئے استعمال ہونگی ۔وہ اپنے خیالی شاہکار کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
کینوس پرایک چہرہ تھا ، اطراف میں صبح کا اجالا پھیلا ہوا تھا، چہرے پر کرنیں ایسے پڑرہی
تھیں جیسے نور سحرنے چہرے پر پردہ کر دیا ہو، صرف دو آنکھیں تھیں، ادھ کھلی آنکھیں،کسی نومولود کی مسکراہٹ کی طرح پاکیزہ ،بندہوتی پلکیں آنکھوں میں موجود شرم و حیاءکو بھی ڈھانپنا چاہ رہی تھیں۔آنکھوں کے کناروں پر موجود دوشفاف قطرے دل میں موجزن عشق کے سمندر کے گواہ تھے، عشق حقیقی کے گواہ۔آنکھوں میں طلب تھی، مطلوب کی رضا کی طلب۔آنکھوں میں اطمنان تھا، خود سپردگی کا اطمنان۔
یہ اطمنان اسے اپنے دل میں اترتا محسوس ہورہا تھا۔وہ کافی دیر تک تصویر کو دیکھتا رہا اور پھر اس نے تصویر کو دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کرلیا۔
عزت یا شہرت کے لئے نہیں۔
پیغام پہنچانے کے لئے۔
No comments:
Post a Comment